حضرت مولانا نورالدین عبد الرحمن نقشبندی جامی رحمۃاللہ علیہ

  • Admin
  • Oct 02, 2021

حضرت مولانا نورالدین عبد الرحمن نقشبندی جامی رحمۃاللہ علیہ 

تعارف:

آپ ؒکا اصلی نام  نورالدین عبدالرحمٰن ہے۔ مولانا عبدالر حمٰن جامی رحمۃ اﷲ علیہ عالم اسلام کی مقتدر شخصیات میں سے ایک اہم شخصیت ہیں، جو مورخ، سیرت نگار، سوانح نگار، نثرنگار اور شاعر کے علاوہ ایک عظیم صوفی بزرگ ہوئے ہیں۔ آپ کاشمار صف اوّل کے صوفیاء کرام میں ہوتا ہے ۔ تاریخ اور تصوف پر آپ کاکام رہتی دنیا تک یادگار رہے گا۔ علامہ جامی رحمۃ اﷲ علیہ نے صوفیاء کرام کے طریقہ پر عمل کرتے ہوئے بزرگان دین سے روحانی استفادہ کے لیے سفر و سیاحت کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور یوں دامن ِمراد میں روحانیت بھرتے گئے ۔ مولانا عبدالر حمٰن جامی رحمۃ اﷲ علیہ سچے عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تھے ۔ آپ کا یہ پہلو آپ کو ممتاز کرتا ہے ، جس کی وجہ سے شرق وغرب آپ کا شہرہ ہے ۔ آپ ؒنے جس و الہانہ انداز سے بارگاہ رسالت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں ہدیۂ نعت پیش کیا ہے ، اس کا تمام فارسی ادب میں جواب نہیں ملتا۔

ولادت: 

مولانا نور الدین عبد الرحمن نقشبندی جامی  رحمۃاللہ علیہ صوبہ خراسان کے ایک قصبہ خرجرد میں 1414ء کو پیدا ہوئے،اسی نسبت سے انہیں جامی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان کے والد نظام الدین احمد بن شمس الدین ہرات چلے گئے تھے مگر ان کا اصل وطن"دشت" (اصفہان کا ایک شہر) تھا، اس لئے انہوں نے پہلے دشتی تخلص اختیار کیا۔ 

تعلیم:

دوران تعلیم جب ان کو تصوف کی طرف توجہ ہوئی توسعید الدین محمد ؒکاشغری کی صحبت میں بیٹھے۔ حضرت جامیؒ کو نقشبندی سلسلے کے معروف بزرگ خواجہ عبیداللہ احرارؒ سے گہری عقیدت تھی ۔انہیں سے تعلیم باطنی اور سلوک کی تکمیل کی اور خواجہ کی خانقاہ میں جاروب کش ہوئے۔ اوائل عمر ہی میں آپ ؒاپنے والد کے ساتھ ہرات اور پھر سمرقند کا سفر کیا جہاں علم و ادب کی تحصیل کی اور دینی علوم، ادب اور تاریخ میں کمال پایا۔ تصوف کا درس سعدالدین محمد ؒکاشغری سے لیا اور مسند ارشاد تک رسائی ملی۔ حج کے لئے بھی گئے اور دمشق سے ہوتے ہوئے تبریز گئے اور پھر ہرات پہنچے۔  مولانا جامیؒ ایک صوفی صافی اور اپنے دور کے جید عالم تھے۔ آپؒ کا نام صوفیانہ شاعری اور نعت پاک میں بہت بلند ہے۔ مولانا جامی ؒحضرت محمد مصطفیٰ  ﷺکے بڑے عاشق زار تھے۔ 

تقریباً 16 مرتبہ انہیں حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ کی زیارت نصیب ہوئی ۔ 

تصانیف:

آپؒ کی مشہور تصانیف مثنوی یوسف زلیخا، لیلیٰ مجنوں، فاتحۃالشباب، واسطۃالعقد، خاتمۃ الحیات، شرح ملا جامی، شیخ سعدی کی گلستاں کے جواب میں ایک نثری کتاب بہارستان ہے۔ اس کے علاوہ سلسلتہ الذھب اور خرد نامہ سکندری ان کی بہت مشہور کتابیں ہیں۔ اہل بیت ِاطہار علیہم السلام سے بطورِ خاص محبت کا اظہار آپؒ کی کتاب ’’بارہ امام‘‘ سے بھی ہوتا ہے ۔

علامہ جامیؒ کا عشق رسول ﷺ: 

تحریر: نازش المدنی مرادآبادی

عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے باب میں امام عاشقاں غزالی دوراں حضرت علامہ الشاہ عبدالر حمٰن جامی رحمۃ ﷲ علیہ کا نام نہایت ہی معروف و مشہور نام ہے کیوں کہ آپ علیہ الرحمہ کی مکمل زندگی شمع عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے روشن و تاباں تھی۔

  آپ علیہ الرحمہ سچے عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تھے ۔آپؒ نے جس والہانہ انداز سے بارگاہ رسالت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں ہدیۂ نعت پیش کیا ہے ، اس بات کا اندازہ آپ علیہ الرحمہ کے اشعار سے کیا جاسکتا ہے ۔آپ رحمۃ اﷲ علیہ کا نعتیہ کلام اگرچہ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

لیکن نثر میں بھی آپؒ نے اپنے عشق و محبت کا اظہار کیا ہے ۔ سیرت رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر آپ ؒکی جامع کتاب ’’شواہدۃ النبوۃ‘‘ ہے ، جس کا ہر لفظ ہر ہر حرف اور ہر ہر جملہ آپؒ کے عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا عکاس ہے ۔ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا تقاضا یہ بھی ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت جس چیز سے ہو اس سے محبت کی جائے۔

چنانچہ صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کا ذکر خیر بھی دل نشیں انداز میں کیا جاے ۔ اہل بیت ِاطہار علیہم السلام سے بطورِ خاص محبت کا اظہار آپؒ کی کتاب ’’بارہ امام‘‘ سے بھی ہوتا ہے۔

علامہ منشا تابش قصوری لکھتے ہیں: حضرت شاہ محمد ہاشم رحمۃ اﷲ علیہ ’’جامع الشواہد‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں۔ ’’ماہ ربیع الاوّل کی ایک پر کیف اور نورانی رات میں امام العاشقین حضرت علامہ عبدالرحمنٰ جامی قدس سرہ السامی نے ایک روح پرور اور ایمان افروز خواب دیکھا کہ محراب النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قریب حبیب کبریا جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جلوہ افروز ہیں، ذکر و اذکار اور حمد ونعت کا سلسلہ جاری ہے ۔

حضرت جامی رحمۃ اﷲ علیہ بھی چند نعتیہ اشعار پیش کرتے ہیں، جنہیں سرکار ابد قرار صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم منظور فرماتے ہیں۔ جب آنکھ کھلی تو جامی رحمۃ اﷲ علیہ پر وجد و سرور کی کیفیت طاری تھی ،عالم جذب میں فرمانے لگے ’’وہ نورانی رخ زیبا جو چاند سے زیادہ حسین اور روشن ہے ، جب جبینِ مقدس سے ، آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے موئے مبارک کو ہٹایا تو سراج منیر کی تجلیاں نمودار ہونی لگیں‘‘۔

اس کے بعد جب جامی رحمۃ اﷲ علیہ کا اپنے وطن آنا ہوا تو بے تابی کے عالم میں پکارنے لگے:

نسیما جانب بطحا گزر کن

ز احوالم محمد را خبر کن

ببر ایں جان مشتاقم در آنجا

فدائے روضۂ خیر البشر کن

توئی سلطان عالم یا محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم

ز روئے لطف سوئے من نظر کن

مشرف گرچہ شد جامی

زلطفش خدایا ایں کرم بار دگر کن

جامی رحمۃ اﷲ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک ہفتہ بھی گزرنے نہیں پایا تھا کہ انہیں آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پھر زیارت سے مشرف فرمایا۔

 (اغثنی یا رسول اﷲ ،صفحہ 17,18)

 نیز حضرت علامہ عبدالرحمنٰ جامی رحمۃ اﷲ علیہ وہ عاشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہیں جن کو بارگاہ رسالت میں شرف قبولیت حاصل ہے۔

ایک نعت شریف لکھنے کے بعد جب حج کے لیے تشریف لے گئے تو ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضہ اقدس کے پاس کھڑے ہوکر اس نعت پاک کو حضور پاک کے سامنے پیش کریں گے ۔

چنانچہ حج بیت اللہ شریف کے لیے تشریف لے گئے اورحج سے فارغ ہوکر مدینہ منورہ کی حاضری کا ارادہ کیا تو امیر مکہ کو خواب میں نبی کریم رؤوف الرحیم کی زیارت نصیب ہوئی ۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ امیر مدینہ تم سوئے ہوئے ہو جاگو اور اس شخص کو یعنی حضرت عبدالرحمن جامی کو مدینہ طیبہ کی جانب آنے سے روکو ۔ چناں چہ گورنر مدینہ نے تمام سرحدوں پر پہرے لگادیئے ۔

حضرت عبدالرحمن جامیؒ بڑے پائے کے عاشق رسولﷺ تھے ۔ ان کے دل پر عشق نبی کریمﷺ اس قدر غالب تھا کہ چھپ کر مدینہ طیبہ کی جانب چل پڑے ۔ترکی سے آنے والے قافلے کو اپنے ساتھ لے جانے کو کہا پہلے تو قافلے نے انکار کردیا لیکن پھر چند سکوں کے عوض انہیں مدینہ پاک ساتھ لے جانے پر رضا مند ہوگئے اورعبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ کو ایک اونٹ پر موجود صندوق میں بند کردیا ۔

جب یہ اونٹوں کاقافلہ جو کہ ترکی سے مدینہ کی جانب رواں دواں تھا جب مدینہ پاک کی سرحد پر پہنچا تو سکیورٹی پر مامور پہرہ داروں نے اس قافلے کو روک لیا اور اسے چیک کیا جانے لگا ۔

قافلے والوں نے بڑی منتیں کیں کہ ہمارے قافلے کو جانے دیا جائے لیکن انہوں نے انکار کردیا اورکہا کہ جب تک آپ لوگ اپنے اونٹوں پر لدے سامان کی مکمل چیکنگ نہیں کرواتے گورنر مدینہ نے مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے منع کیا ہے ۔بیسیوں اونٹوں کی چیکنگ کے بعد ایک اونٹ کو جب بٹھایا گیا اور اس پر لدے ایک صندوق کو کھولا تو اس میں سے جناب عبدالرحمن جامی چھپے ہوئے نکال لیے اورانہیں واپس عراق کی طرف ڈھکیل دیا گیا۔

حضرت عبدالرحمن جامی رحمہ اللہ علیہ بڑے غمگین ہوئے اور رونے لگے ۔ پھر دوبارہ عبدالرحمن جامی نے مدینہ کا قصد کیا اورایک بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ چل پڑے ، موصل سے یہ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ طائف کی طرف رواں دواں تھا علامہ جامی نے اس قافلے والے سے اجازت طلب کی کہ میں آپ کی ان بھیڑ بکریوں کی ساتھ حفاظت کروں گا آپ مجھے بھی ساتھ لے چلیں ۔

وہ قافلہ راضی ہوگیا اور علامہ جامی کو اپنے ساتھ لے آیا جب مدینہ کے قریب سرحد پر پہنچے تو آپ نے ایک بھیڑ کی کھال پہن کر سرحد کے دروازے سے مدینہ پاک میں داخل ہو رہے تھے کہ اچانک ایک نقاب پوش گھڑ سوار نے آپ کو پکڑ لیا اور لے کر گورنر کی سپرد کردیا اورگورنر نے انہیں قیدخانے میں ڈال دیا ۔

اسی رات گورنر مدینہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اورفرمایا کہ تم نے جامی کو قید میں کیوں ڈالا وہ کوئی مجرم نہیں ہے اسے فوراً رہا کرو کیوں کہ وہ صرف عاشق رسول ﷺ ہے ۔

اگر عبدالرحمن جامی مدینہ پاک میں داخل ہوگیا تو مجھے قانون قدرت کو توڑ کر اس کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے روضہ انور سے باہر آنا پڑے گا ۔

 ایک اور روایت کے مطابق عبدالرحمن جامی اس وفد کے لیڈر تھے جو کئی دن کی مسافت کے بعد روضہ رسول ﷺ پہ حاضری دینے کے لیے اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ ان کا نام امام عبدالرحمٰن جامی رحمتہ اللہ علیہ تھا۔ جن کا نام آج بھی تاریخ میں عشق رسول ﷺ کے حوالے سے زندہ ہے۔

انہوں نے مدینہ سے باہر چند میل کے فاصلے پہ پڑا ڈالا۔ وہ سارا دن ادھر ہی رہے۔ قافلے والوں نے دیکھا کہ ایک گھڑ سوار ان کی طرف آ رہا ہے، گھڑ سوار ان کے درمیان میں پہنچا اور قافلے والوں سے پوچھا کہ تم میں سے جامی کون ہے؟ لوگوں نے امام کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ امام عبدالرحمن جامی ہیں اور یہ ہمارے قافلے کے لیڈر ہیں اور گھڑ سوار جامی رحمتہ اللہ علیہ کی طرف مڑ گیا اور السلام علیکم کہا۔ جامی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا وعلیکم السلام! آپ کون ہیں ؟ کہاں سے آئے ہیں؟ اور کس لیے آئے ہیں؟ اس آنے والے گھڑ سوار (جو کہ شکل و صورت سے ایک صوفی معلوم ہوتا تھا)۔ نے کہا کہ میں مدینہ سے آیا ہوں۔

یہ الفاظ سننا تھے کہ حضرت جامی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی پگڑی اتار کر اس گھڑ سوار آدمی کے قدموں میں رکھ دی اور فرمایا کہ میں ان قدموں پہ قربان جو میرے محبوب نبی پاکﷺ کے مقدس شہر سے آ رہے ہیں۔ جامی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی بات جاری رکھی اور پوچھا کہ آپ یہاں کس مقصد سے تشریف لائے ہیں؟

آدمی کچھ دیر کے لیے خاموش رہا پھر جواب دیا کہ جامی رحمتہ اللہ علیہ مجھ سے وعدہ کرو جو کچھ میں تمہیں بتاوں گا تم اسے دل تھام کے سنو گے! جامی رحمتہ اللہ علیہ نے آہستہ آواز سے فرمایا کہ ٹھیک ہے۔ آدمی نے اپنی بات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تمہارے پاس نبی آخر زماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے۔

جامی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے فرمایا کہ میرے آقا ﷺ نے کیا فرمایا ہے! آدمی نے کہا کہ نبی پاک نے آپ کو مدینہ شریف آنے سے اور ملاقات سے منع فرمایا ہے۔ یہ الفاظ جامی رحمتہ اللہ علیہ کے دل پر تیر کی طرح لگے اور آپؒ کا سر چکرانا شروع ہو گیا اور تھوڑی دیر بعد بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئے۔

ان کے ساتھی یہ دیکھ کر پریشان ہو گئے کہ ان کے امام گزر گئے ہیں۔ لیکن کچھ گھنٹوں بعد آپ کو ہوش آ گیا ۔ آدمی ابھی ادھر ہی تھا۔ جامی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مجھے بتا کہ کیوں میرے آقا ﷺ نے مجھے مدینہ شریف داخل ہونے سے روکا ہے!۔

میں نے کیا گناہ کیا ہے کہ میرے آقا ﷺ مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں! آدمی نے جواب دیا کہ آقا ﷺ آپ سے ناراض نہیں ہیں بلکہ وہ تو آپ سے بے حد راضی ہیں۔تو پھر کیوں میرے آقا ﷺ نے مجھے مدینہ آنے سے روکا ۔ آدمی بولا کہ آقا ﷺ نے فرما یا ہے کہ جامی سے کہو کہ اگر وہ میرے لیے اپنے دل میں اتنی محبت لے کر مدینہ آیا تو یہ میرے لیے لازم ہو جائے گا کہ میں روضہ سے نکل کر خود استقبال کروں اور اس سے مصافحہ کروں۔ اس لیے جامی سے کہو کہ وہ مدینہ شریف میں داخل نہ ہو میں خود اس سے ملوں گا۔

جامی سے کہو کہ ادھر نہ آئے اور نہ مجھ سے ملے میں خود اس سے ملاقات کروں گا۔ یوں جامی دربار رسالت پہ حاضری دئیے بغیر حاضری کی خواہش اپنے دل میں لیے روتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔

قارئین جانتے وہ کلام کون سا ہے جس کے متعلق یہ واقعہ پیش آیا وہ مشہور زمانہ کلام یہ ہے:

تنم فرسودہ جاں پارہ زِھِجراں یا رسول اللہ

میرا جسم ناکارہ اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے آپ کی جدائی میں،اے اللہ کے پیارے نبیﷺ

دِلم پژ مردہ آوارہ زِعصیاں یارسول اللہ

میرا دل بھٹک رہا اور دل کا پھول مرجھا چکا ہے گناہوں کہ بوجھ سے،اے اللہ کے پیارے نبیﷺ

چوں سوئے من گزر آرِی منِ مِسکیں زِ ناداری

کبھی خواب میں اپنا جلوہ دکھا دیں اس عاجِز مِسکین اور غریب نادار سائل کو

فِدائے نقشِ نعلینت کنم جاں یا رسول اللہﷺ

تو میں پھر آپ ﷺکے(جوتی کے)نقشِ پا پر فدا ہو جاں گا، (اے اللہ کے پیارے نبیﷺ )۔

زِکردہ خویش حیرانم سِیاہ شد روز عِصیانم

میں نے جو کچھ کیا ہے بہت حیران ہوں روزِحساب میرا اعمال نامہ گناہوں کی بہتات سے سیاہ ہوگا

پشیمانم پشیمانم پشِیماں یا رسول اللہﷺ

میں انتہائی پشیماں اور سخت شرمندہ ہوں پشیمان ہی پشیمان ہوں،اے اللہ کے پیارے نبیﷺ۔

زِجامِ حبِ تومستم بہ زنجیرِ تو دِل بستم۔۔

آپ کی محبت میں،میں مست ہوں آپ کے عشق کی زنجیر سے میرا دل بندھا ہوا ہے

نمی گویم کہ من ھستم سخن داں یا رسول اللہ

میں عاجز اور مِسکین کوئی دعوی نہیں کرتا کہ میں ایک بہت بڑا شاعرہوں،اے اللہ کے پیارے نبیﷺ

چوں بازوئے شفاعت را کشائی بر گناہ گاراں

جب روزِ قیامت آپ اپنی شفاعت کا بازو لمبا کرکے گناہ گاروں کے سر پر پھیلا دیں گے

مکن محرومِ جامی را درا آں یا رسول اللہ

اس روز اِس عاجز جامی کو محروم نہ رکھیے گا اس جان جوکھوں کی نازک گھڑی میں،اے اللہ کے پیارے نبیﷺ.

 

اللہ کریم ہمیں بھی علامہ جامی ؒکے عشق رسول کا صدقہ عطا فرمائے  آمین 

بجاہ طہ و یس صلی اللہ علیہ وسلم

وصال:

اخیر عمر میں آپؒ مجذوب ہو گئے تھے اور لوگوں سے بولنا ترک کر دیا تھا۔ مولانا عبدالرحمن جامی ؒکی وفات بروز جمعہ 18 محرم الحرام 898 ہجری،14 نومبر 1492 ء 80 سال کی عمر میں وفات پائی۔اور ہرات میں آپؒ کو دفن کیا گیا۔